کیا درود پاک حق مہر بن سکتا ہے؟
لاسٹ اپ ڈیٹ: 10 اکتوبر، 2026دینی موضوع
اس رہنمائی میں سوال کا جواب اور اس کے دلائل دیے گئے ہیں۔ یہ صرف معلومات کے لیے ہے، فتویٰ نہیں۔
حکم
نکاح میں دُرود پاک کو عورت کا حق مہر مقرر نہیں کیا جاسکتا، اگر کسی نے کر دیا ، تب بھی مہرِ مثل لازم ہو گا ،مہر ِمثل سے مراد عورت کے والد کی طرف سےخاندان کی اُس جیسی عورتوں کا جو مہر مقرر ہوا ، مثلاً: اُس کی بہن، پھوپی، چچا کی بیٹی وغیرہا کا مہر ، اس عورت کے ليے مہرِ مثل ہے۔
قرآن سے دلیل
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :﴿ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰ تُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً ﴾ترجمہ کنز العرفان:’’اور ان (محرمات)عورتوں کے علاوہ سب تمہیں حلال ہیں کہ تم انہیں اپنے مالوں کے ذریعے نکاح کرنے کو تلاش کرو، نہ کہ زنا کرنے کے لیے،توان میں سے جن عورتوں سے نکاح کرناچاہو، ان کے مقررہ مہر انہیں دے دو۔( پارہ 5، سورۃ النساء ، آیت 24)
مذکورہ بالاآیتِ مبارکہ کے اِس جزء ﴿ بِاَمْوَالِكُمْ﴾ کے تحت امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:710ھ/1310ء) لکھتے ہیں:”فيه دليل على…أنه يجب وإن لم يسم وأن غير المال لا يصلح مهرا “ترجمہ : آیت ِ مبارکہ میں اس بات پر دلیل ہےکہ نکاح میں مہر اگرچہ ذکر نہ بھی کیا جائے ، تب بھی لازم ہی ہے اور اس بات پر بھی دلیل ہےکہ جو چیز مال نہیں ، وہ مہر بننے کے قابل نہیں۔ (التفسیر النسفی، سورۃ النساء ، تحت الایۃ 24، جلد1، صفحہ348، مطبوعہ لاھور)
حدیث سے دلیل
(1) مصنف ابن ابی شیبہ ، سنن كبری للبیہقی، کنز العمال اور سنن دارقطنی میں ہے، واللفظ للآخر:’’ عن جابر أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال:لا صداق دون عشرة دراهم‘‘ترجمہ :حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : مہر دس درہم سے کم نہیں ۔(سنن دار قطنی ، جلد 4، صفحہ 358، مطبوعہ مؤسسة الرسالہ، بيروت)
فقہی عبارات
مہر کا مال ہونا ضروری ہے ، یہ بات خود مہر کی تعریف سے بھی واضح ہوتی ہے ، جیساکہ نہر الفائق ، رد المحتار اور عامۂ کتب فقہ میں ہے، واللفظ للاول :” اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد “ترجمہ : مہر اس مال کا نام ہے، جو عقدِ نکاح میں شوہر پر ملکِ بضع (حق زوجیت ملنے)کی وجہ سے واجب ہوتا ہے ، یا تو صراحتاً ذکر کرنے سے یا عقدِ نکاح سے ہی۔(النهر الفائق شرح كنز الدقائق، کتاب النکاح ،باب المھر ،جلد 2، صفحہ 229 ، مطبوعہ دار الكتب العلمي،بیروت)
اور طاعت یعنی نیکی کے کاموں ،مثلاً: تعلیمِ قرآن ، تلاوت و نماز یا دُرود پاک وغیرہا کو مہر مقرر کرنا دُرست نہیں کہ یہ مال نہیں اور ایسی صورت میں مہر ِمثل لازم ہو گا، چنانچہ ملک العلماءعلامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِاور علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:”يجب مهر المثل فيما لو تزوجها على أن يعلمها القرآن أو نحوه من الطاعات لأن المسمى ليس بمال “ترجمہ : اگر نکاح اس طور پر کیا کہ تعلیم قرآن یا کوئی اور نیکی کا کام (مثلاًدُرود پاک ) مہر ہو گا، تو ایسی صورت میں مہر مثل لازم ہو گا ، کیونکہ جو چیز مہر کے لیے ذکر کی گئی وہ مال نہیں ۔(ردالمحتار مع الدرالمختار، کتاب النکاح،باب المھر ، جلد4، صفحہ229، مطبوعہ کوئٹہ)
ذرائع
- Kya Durood-e-Pak Haq Meher Ban Sakta Hai? — fatwaqa.com (Darulifta Ahlesunnat, Dawateislami) (نئی ٹیب میں کھلتا ہے)
ہر ذریعہ 10 اکتوبر، 2026 کو کھول کر جانچا گیا۔
نظرِ ثانی کی صورتحال
یہ رہنمائی صرف یہاں درج ذرائع کا خلاصہ ہے۔ ابھی کسی مستند عالم نے اس پر نظرِ ثانی نہیں کی، اس لیے اسے عمومی معلومات سمجھیں۔