مرکزی مواد پر جائیں
حق مہر فائنڈر

عورت کا مہر معاف کرنے کا شرعی حکم

لاسٹ اپ ڈیٹ: 10 اکتوبر، 2026دینی موضوع

اس رہنمائی میں آخر میں دیے گئے ذریعے سے سوال اور جواب دیا گیا ہے۔ یہ صرف معلومات کے لیے ہے، فتویٰ نہیں۔

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ نکاح کے وقت جو مہر مقرر ہوا تھا اگر عورت اپنی رضا مندی سےاُسے معاف کردے تو کیا اس طرح حق مہر معاف ہو جاتا ہے؟ اور پھر عورت بعد از طلاق اس کا مطالبہ کرسکتی ہے؟

جواب

اگر عورت بغیر کسی دباؤ کے اپنی خوشی سے اپنا مہر معاف کردے اور شوہر مہر کی معافی کو ردّ نہ کرے بلکہ قبول کرلے یا بس خاموش ہی رہے تو مہر معاف ہوجاتا ہے اور اب بیوی اس مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتی نہ طلاق سے پہلے اورنہ ہی طلاق کے بعد۔

ذرائع

ہر ذریعہ 10 اکتوبر، 2026 کو کھول کر جانچا گیا۔

نظرِ ثانی کی صورتحال

یہ رہنمائی صرف یہاں درج ذرائع کا خلاصہ ہے۔ ابھی کسی مستند عالم نے اس پر نظرِ ثانی نہیں کی، اس لیے اسے عمومی معلومات سمجھیں۔